We are committed to reporting the facts and in all situations avoid the use of emotive terms.

بریکنگ نیوز
english logo

مشرقِ وسطیٰ کے ممالک جوہری توانائی کے حصول کے لیے کیا اقدامات کررہے ہیں؟

مشرقِ وسطیٰ کے ممالک جوہری توانائی کے حصول کے لیے کیا اقدامات کررہے ہیں؟

ریاض (یو این این ) مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک بہت جلد جوہری توانائی کے حامل بننے جار ہے ہیں۔متحدہ عرب امارات اس سال کے آخر میں اپنا پہلا جوہری ری ایکٹر شروع کررہا ہے، مصر اور کویت اپنے ہاں جوہری ری ایکٹر کی تعمیر کے لیے بات چیت کررہے ہیں۔ سعودی عرب اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 16جوہری ری ایکٹر تعمیر کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں سعودی مملکت کے دوسرے ممالک کے ساتھ جلد معاہدے متوقع ہیں۔ سعودی عرب 2032ء تک جوہری توانائی سے 17.6 گیگا واٹ بجلی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ یو اے ای کی وفاقی اتھارٹی برائے نیو کلیئر ریگولیشن ( ایف اے این آر) کے ڈائریکٹر جنرل کرسٹر وکٹرسن کے مطابق اس وقت دنیا کے 30 ممالک میں 440 جوہری ری ایکٹرز کام کررہے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے عرب دنیا کا سب سے بڑا ملک مصر دارالحکومت قاہرہ سے 130 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع علاقے ایل دباع میں جوہری پلانٹ کی تنصیب کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ یہ 2024ء تک کام کرنا شروع کردے گا۔ کرسٹر وکٹرسن نے بتایا ہے کہ ایک ملک کو بالکل نئے سرے سے اپنا جوہری پروگرام شروع کرنے کے لیے بہت زیادہ انفرااسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ جوہری توانائی کے حصول کے لیے ایک ملک کو ریگولیٹری عناصر کے علاوہ بین الاقوامی کنونشنوں اور معاہدوں پر دستخط کرنا پڑتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ جوہری پروگرام کو محفوظ اور پْرامن طریقے سے چلایا جائے گا اور اس کے نزدیک واقع آبادی کو تابکاری اثرات سے تحفظ مہیا کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ملک کو جوہری پاور پلانٹ کے حصول کے لیے سکیورٹی اور ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانے کی غرض سے بھی اقدامات کرنا ہوتے ہیں۔

Translation

اداریہ

آج کی تصویر

مقبول ترین

Whatsapp نیوز سروس

Advertise Here

ضرورت نمائیندگان

روزنامہ جواب

ضرورت نمائیندگان

Coverage

Currency

WP Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com