We are committed to reporting the facts and in all situations avoid the use of emotive terms.

بریکنگ نیوز
english logo

’’لہولہو‘‘ دیرہ کی ایک اور کہانی (قسط نمبر4)

ڈیرہ اسماعیل خان کے کوٹلی امام حسینؑ وقف کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ پچھلے دو تین ہفتوں سے بشیر حسین جڑیا اپنے دوستوں سمیت کوٹلی امام حسینؑ کے فرنٹ پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ وقف بچاؤ ایکشن کمیٹی کے روح رواں یہی ہیں۔ ان سے سوال کیا کیا تین چار افراد کا دھرنا انتظامیہ، محکمہ اوقاف اور حکومت پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو جائے گا؟۔ بشیرجڑیا بولے کسی سے شکوہ نہیں ہے لوگوں کی ذاتی مجبوریاں اور شہر کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ پوچھاجب دھرنے کا آغاز کیا تھا تو چند تنظیموں نے اس جگہ بینر بھی لگائے تھے وہ بینر اور تنظیمیں کہاں ہیں؟۔ سندھ دریا کے کنارے کی مٹی سے گُندھاوضع دار آدمی خاموش ہوگیا۔ کچھ اصرار کیا تو کہنے لگے۔ سب آتے ہیں۔ سب کا تعاون حاصل ہے۔ ساعت بھر کے لئے رکے اور پھر بولے۔سئیں۔تنظیموں کا کیا ہے۔ آئے فوٹو بنوائی اور چلے گئے۔ ان کے ہمراہ کیمپ میں بیٹھے ایک اور صاحب بولے۔ ہم کسی سے ناراض نہیں۔ مولاؑ کا کام ہے۔ ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں۔کوٹلی امام حسینؑ کے وقف کا سرکاری کاغذات (محکمہ مال کے کاغذات ) میں وقف خانقاہ امام حسینؑ کے نام سے درج ہے۔ 327 کنال اور 9مرلے یہ اراضی 1837ء میں دیرہ کی ایک ہندو فیملی نے وقف کی تھی لگ بھگ 115سال تک مقامی شیعہ برادری کی وقف کمیٹی اس کا انتظام سنبھالے رہی 1952ء میں شیعہ وقف کمیٹی کے ارکان کے درمیان اپنی اپنی سیاسی تعلق داریوں کی وجہ سے بداعتمادی پیدا ہوئی پھر یہ طے پایا کہ اس کا انتظام نگرانی محکمہ اوقاف کے سپرد کردی جائے۔ وقف کمیٹی اس مرحلہ پر غفلت کا مظاہرہ کرگئی۔
ہونا یہ چاہئے تھا کہ وقف کمیٹی اور محکمہ اوقاف کے درمیان کوئی باضابطہ تحریر برائے انتظام نگرانی لکھی جاتی مگر باہمی اختلاف کی وجہ سے کسی تحریر کے بغیر انتظام نگرانی محکمہ اوقاف کے حوالے کردیا گیا۔ بندر بانٹ کا سلسلہ یہیں سے شروع ہوا۔ وقف کا رقبہ ہاتھ لگا تو اوقاف والوں نے پر پُرزے نکالنے شروع کردئیے لوگوں نے احتجاج کیا تو ان کے خلاف کارسرکار میں مداخلت کے مقدمات بنوادیئے۔ وقف اراضی کا کچھ حصہ ڈیرہ بنوں روڈ کی زد میں آیا تو دونوں طرف کا رقبہ فرنٹ پر آگیا اوقاف کی ملی بھگت سے چند بااثر لوگ کچھ اراضی پر قابض ہوئے اور چند ایک کو اوقاف نے لیز عطا کردی۔وقف کے سامنے سڑک کے دوسری جانب قائم پیٹرول پمپ بھی وقف کی اراضی پر ہے۔ اس کے انتقال اندراج کے لئے اوقاف نے سرکلر نمبر 7/9/2011 – 1887 کو جاری کیا انتقال کے لئے جاری کی گئی یہ چھٹی متروکہ املاک اور خود وقف کے قوانین سے متصادم ہے۔ افسوس یہ ہے کہ جس خاندان کے ایک بزرگ نے ہزاروں کنال اراضی گومل یونیورسٹی کے قیام کے لئے عطیہ کردی تھی اس خاندان کے ایک فرد نے وقف خانقاہ امام حسینؑ کی اراضی پر ہاتھ صاف کیا۔ دوسری طرف چند با اثر لوگوں نے میونسپل کمیٹی کی مدد سے مارکیٹ تعمیر کرنے کی کوشش کی مارکیٹ کا ڈھانچہ لالچی مزاج لوگوں کا چہرہ بنا موقع پر موجود ہے۔ شہریوں کے احتجاج اور عدالتی کارروائی سے مزید تعمیرات رک گئیں۔
ایک ظلم یہ ہوا کہ صوبائی حکومت نے وقف کی اراضی کا 2013ء میں محکمہ اوقاف کے نام انتقال کرنے کا حکم دیا۔ ان دنوں ایک صوبائی وزیر علی امین گنڈا پور یہ پیشکش لے کر میدان میں موجود ہیں کہ اگر شیعہ برادری چاہے تو 19کنال اراضی اوقاف سے خرید کر وقف کمیٹی کے نام انتقال کروا دیتے ہیں مگر وہ یہ لکھ کر دیں کہ باقی ماندہ اراضی میونسپل کمیٹی کو منتقل ہونے پر اعتراض نہیں کریں گے۔اربوں روپے کی اراضی میں سے سب حصہ کھرا کرنا چاہتے ہیں۔ وقف کی اراضی پر کس کس کی رال نہیں ٹپک رہی کیا اپنے کیا پرائے سب حصہ بقدرے جُثہ وصول کرنے کی دوڑ میں جُتے ہوئے ہیں۔تحریک جعفریہ سے تعلق رکھنے والے ایم ا یم اے دور کے صوبائی مشیر برائے وزیر اعلیٰ مولانا رمضان توقیر مدرسہ باب النجف پر تو پہلے سے قابض ہیں اب علی امین گنڈا پور کی معرفت وہ اس کوشش میں ہیں کہ مدرسہ والی اراضی کا انتقال براہ راست ان کے نام ہو جائے۔رمضان توقیر شیعہ سیاست میں اترنے سے قبل کوٹلہ سیدان کی مسجد میں پیش نماز تھے تو اس وقت انہیں سائیکل بھی مقامی مومنین نے چندہ اکٹھا کرکے لے کر دی تھی۔ سیاست اور زمانے نے دوسرے بہت سارے لوگوں کی طرح انہیں بھاگ لگائے اور اب ماشااللّہ وہ ’’صاحب حثیت ہیں‘‘ دوسرے بہت سارے ’’لیڈروں‘‘ کی طرح۔ سوال یہ ہے کہ وہ یہ کوشش کیوں نہیں کرتے کہ وقف کی مکمل اراضی واگزار ہو اور 327کنال 9مرلے زمین واپس وقف کمیٹی کو مل جائے؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ نفس کے سرکش گھوڑے پر کا ٹھی ڈال کر جینا ان کے بس میں نہیں۔ ایک رمضان توقیر کیا کچھ زندہ و مرحوم لوگوں کے حوالے سے گردش کرتی کہانیاں خون کے آنسو رونے پر مجبور کردیتی ہیں۔
مثلاً بعض شہداء کی گھروں کی خواتین کو امداد کے نام پر عقد ثانی اور معیادی شادی کے پیغامات بھیجنے والوں میں ایسے ایسے شرفا اور قبا فروشوں کے نام آتے ہیں کہ عقیدت کا طوق گلے میں ڈالے بوزنے صفائیاں پیش کرتے نہیں تھکتے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں قیامت تین مرحلوں میں اترتی پہلا مرحلہ 1985ء سے 1990ء دوسرا 1990ء سے 2001ء اور تیسرا 2002ء سے شروع ہوا جواب بھی جاری ہے اس دوران سینکڑوں لوگ دہشت گردی اورٹارگٹ کلنگ (دہشت گردی معنی بم دھماکوں اور خود کش حملوں) کا نشانہ بنے اور سینکڑوں ہی شدید زخمی ہوئے شدید زخمیوں میں سے درجنوں زندگی بھر کے لئے معذور ہوچکے۔ شہدا ء اور زخمیوں کے لواحقین کے لئے مخیر حضرات نے بعض لوگوں کی معرفت متاثرین کی مدد کی ان ’’بعض‘‘ میں وہ شرفا بھی شامل ہیں جنوں نے رقم تو اڑھائی لاکھ روپے فی کس وصول کی مگر دیتے 5ہزار روپے ماہوار تھے۔ مثال کے طورپر چند روز قبل شہید ہونے والے نوجوان سید حسن علی شاہ کے والد اور بھائی جب بم دھماکہ میں شہید ہوئے تو بیرون ملک سے ایک شخصیت نے حسن کے والد سید اصغر شاہ المعروف گلو شاہ کے لئے ڈھائی لاکھ روپے بھجوائے یہ رقم ایم ڈبلیوایم کے ایک صوبائی رہنما کے پاس تھی اس نے پہلے اصغر شاہ کو 35ہزار روپے دیئے پھر دوتین ماہ پانچ ہزار روپے لیکن جب اصل صورتحال واضع ہوئی تو اصغرشاہ نے احتجاج کیا پہلے یہ ارشاد فرمایا ’’ شاہ جی آپ کی رقم امانت ہے اکھٹی اس لئے نہیں دیتاکہ خرچ نہ ہو جائے۔‘‘پھر جب انہوں نے شور مچایا تو چند لوگوں کی مداخلت پر ڈیڑھ لاکھ روپے ادا کرتے ہوئے کہا کہ باقی کی رقم سے انہوں نے مستحق لوگوں کی مدد کردی ہے ۔ قومیات کی سیاست کرنے والے جب خدمت کی بجائے گھر کا سامان کریں گے تو لوگوں کی حالت کیا ہوگی یہ ایسا راز نہیں جو سمجھ میں نہ آئے (جاری ہے)

Translation

اداریہ

آج کی تصویر

مقبول ترین

Whatsapp نیوز سروس

Advertise Here

ضرورت نمائیندگان

روزنامہ جواب

ضرورت نمائیندگان

Coverage

Currency

WP Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com