We are committed to reporting the facts and in all situations avoid the use of emotive terms.

بریکنگ نیوز
english logo

لیبیا میں انقلاب کی سال گرہ کی تقریبات میں القاعدہ کا رہ نما نمودار

لیبیا میں انقلاب کی سال گرہ کی تقریبات میں القاعدہ کا رہ نما نمودار

طرابلس(یو این این ) لیبیا میں فروری 2011 کے انقلاب کے 7 برس مکمل ہونے پر یادگاری تقریبات کا اہتمام کرنے والی سپریم کمیٹی نے ہفتے کے روز منائے جانے والے جشن کی بعض تصاویر جاری کی ہیں۔ ان تصاویر میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد اور لیبیئن اسلامک فائٹنگ گروپ کے رکن ابراہیم تنتوش کی تصویر بھی شامل ہے۔ لیبیا کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر تنتوش کی تصویر زیر گردش ہے۔ایک تصویر میں ابراہیم تنتوش الشہداء4 اسکوائر میں لوگوں کے درمیان کھڑا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس کے ساتھ ایک خاتون بھی موجود ہے جو غالبا اس کی بیوی ہے جب کہ تنتوش کے کندھے پر ایک بچّہ بھی سوار ہے۔ ابراہیم تنتوش القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے قریبی رفقاء4 میں سے ہونے کے سبب انٹرپول کو مطلوب ہے۔ تنتوش لیبیا کے حکام کو بھی اس وقت سے مطلوب ہے جب اس نے لیبین اسلامک فائٹنگ گروپ کے لیے فنڈنگ میں حصّہ لیا۔ وہ غریان شہر میں سونے کی مصنوعات تیار کرنے والی تنصیبات میں ملازم تھا کہ اس دوران اس نے مذکورہ گروپ کی فنڈنگ کے لیے چوری بھی کی اور بعد ازاں افغانستان فرار ہو گیا۔جولائی 2015 میں سلامتی کونسل نے ہدایت جاری کی کہ تنتوش کو اب لیبیا کے شہر طرابلس میں تلاش کیا جائے کیوں کہ وہ فروری 2014 میں جنوبی افریقہ سے لیبیا منتقل ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے تنتوش کی ایک تصویر بھی منظرعام پر آئی جس میں وہ اس طیارے میں بحیثیت ایک تماشائی سوار تھا جس طیارے میں لیبیا کی فٹبال ٹیم جنوبی افریقہ کا دورہ کر کے واپس آ رہی تھی۔ اس کے علاوہ دہشت گرد اداروں کی فہرست میں شامل النبا چینل نے اپنے ایک پروگرام میں "تنتوش” کو بطور مہمان دعوت دی۔ پروگرام میں تنتوش نے اپنے وطن لیبیا واپس لوٹنے کے حق کا دفاع کیا ۔ سلامتی کونسل نے 11 اکتوبر 2002 کو ابراہیم تنتوش کا نام القاعدہ سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور اداروں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ سلامتی کونسل کے مطابق اس کا تعلق براہ راست اسامہ بن لادن اور افغان طالبان کے ساتھ ہے اور وہ ان کی مختلف سرگرمیوں میں بطور سہولت کار شریک رہا ہے۔ آخرکار جعلی پاسپورٹوں کے سہارے سفرکرتے ہوئے وہ جنوبی افریقہ پہنچ گیا اور پکڑا گیا۔ تاہم جنوبی افریقہ کی عدالت نے ناکافی شواہد کی بنا پر اسے دسمبر 2005 میں رہا کر دیا۔

Translation

اداریہ

آج کی تصویر

مقبول ترین

Whatsapp نیوز سروس

Advertise Here

ضرورت نمائیندگان

روزنامہ جواب

ضرورت نمائیندگان

Coverage

Currency

WP Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com