We are committed to reporting the facts and in all situations avoid the use of emotive terms.

بریکنگ نیوز
english logo

30 نومبر تک پالیسی اور قانون سازی مکمل، عملدرآمد شروع ہو جائے گا ، فیاض الحسن چوہان

30 نومبر تک پالیسی اور قانون سازی مکمل، عملدرآمد شروع ہو جائے گا ، فیاض الحسن چوہان

لاہور (قیصر مغل/یو این این) صوبائی وزیر انفارمیشن اینڈ کلچر فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت سابق دور حکومت میں شروع کئے جانے والے میگا پراجیکٹس میٹرو لاہور ، راولپنڈی ،ملتان اور اورنج لائن ٹرین کا شفاف آڈٹ کرائے گی تاکہ حکومت پر غیر معمولی بوجھ نہ پڑے ، نئی پالیسی اور قانون سازی تک صوبے میں بھرتیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تاہم پبلک سروس کمیشن کے تحت بھرتیاں جاری رہیں گی ، پنجاب میں کے پی کے کی طرح رائٹ ٹو انفارمیشن بل لایا جائے گا جس کے بعد عام شہری کسی بھی سرکاری افسر یا ملازم کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر سکے گا ، پنجاب میں نیا بلدیاتی نطام لائیں گے جس میں مقامی نمائندے بااختیار ہوں گے ، 30 نومبر تک صحت کے حوالے سے انقلابی اقدامات اٹھائیں گے ، تمام صوبائی وزارتیں ایک ماہ میں قانون سازی اور پالیسی میکنگ کا عمل مکمل کر لیں گی ، وہ گزشتہ روز ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشن آفس میں میڈیا کو نئی حکومت کے پہلے کابینہ اجلاس میں کئے گئے اہم فیصلوں کے حوالے سے بریفنگ دے رہے تھے ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ گزشتہ روز ہونے والے کابینہ کے پہلے اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق 100 دنوں کے پلان کے حوالے سے تمام تجاویز زیر غور لائی گئیں اور اہم فیصلے کئے گئے ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان خان بزدار نے اجلاس میں بتایا کہ ہمارے پاس 100 میں سے صرف 87 دن باقی رہ گئے ہیں جس کیلئے ہمیں 30 نومبر سے پہلے قانون سازی اور پالیسی سازی کا عمل مکمل کر لیں گے تاکہ اس پر عملدرآمد شروع کیا جا سکے اور عوام تک اس کے مثبت اثرات منتقل ہونا شروع ہو جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق پنجاب میں کفایت شعاری پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے اور گزشتہ روز کابینہ اجلاس میں شرکاء کو چائے پانی پیش کیا گیا ، میں نے خود ڈی جی پی آر کر ڈھابے سے دال روٹی منگوا کر کھائی، تمام وزراء صرف ایک گاڑی استعمال کریں گے ۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالے قائم ورکنگ گروپ اپنی تما م قانونی سفارشات مرتب کرکے وزیر اعظم ہاؤس سے کوآرڈینیٹ کرے گا اور اس ضمن میں پنجاب حکومت تمام قانونی تقاضے پورے کرے گی تاکہ 100 دنوں میں جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالے سے کام کو آگے بڑھایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام لایا جائے گا جسکے لئے لوکل باڈیز ایکٹ 2001 ، 2005 اور کے پی کے میں نافذ سسٹم سے اہم نکات کو اکٹھا کر ایسا پاور فل لوکل باڈیز سسٹم پنجاب میں نافذ کیا جائے گا جس میں مقامی نمائندے مکمل بااختیار ہوں گے ۔کے پی کے کی طرح پنجاب میں بھی پولیس کو غیر سیاسی بنایا جائے گا اوراس حوالے سے 30 نومبر سے قبل قانون سازی کا عمل مکمل کر کے پولیس سسٹم کو سیاسی قوتوں اور بااثر افراد کے تسلط سے آزاد کرایا جائے گا ۔30 نومبر تک پنجاب میں صحت انصاف کارڈ عوام کو جاری کئے جائیں گے جس کے مطابق شہریوں کو پانچ لاکھ سے زائد مالیت کی طبی سہولت دستیاب ہو گی جیسے کے پی کے میں دی جا رہی ہے ۔پنجاب میں تا حکم ثانی نئی پالیسی کے نفاذ تک بھرتیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے تاہم پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیوں کا عمل جاری رہے گا ، ماضی میں من پسند افسران کو نوازا گیا ، گریڈ17 کے افسران کو گریڈ 20 کی پوسٹوں پر بٹھایا گیا اور 20,20 لاکھ روپے تنخواہوں کی مد میں ادا کئے گئے، نئی پالیسی سے بھرتی کا عمل شفاف ، سیاسی دباؤ اور اقربا پروری سے آزاد ہو گا ۔صاف پانی کے حوالے سے ماضی میں کوئی عملی اقدام نہ اٹھایا گیا اور جتنی بڑی کرپشن کی گئی اس میں سابق وزیر اعلیٰ سمیت دیگر نیب میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سیوریج اور پینے کے پانی کے پائپ مکس ہو گئے ہیں ، لوگ ہیپاٹائٹس سمیت دیگر خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں ، پی ٹی آئی کی حکومت صاف پانی کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھائے گی ، روزگار کے حوالے سے ٹیوٹا اور سکلڈ ڈیپارٹمنٹس کے ذریعے نوجوانوں کو فنی تربیت دیں گے، سمال اندسٹریز کے حوالے سے اہم اقدامات اٹھائے جائیں گے ،محرم کے حوالے سے اہم نوعیت کلے فیصلے کئے گئے تاکہ مذہبی ہم آہنگی قائم رکھی جا سکے اور امن و امان سبوتاژ نہ ہو۔سابق حکومت نے پنجاب میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کا نفاذ محض دکھاوے کے لئے کیا اور عملی طور پر کچھ بھی نہ تھا لیکن پی ٹی آئی کی حکومت رائٹ ٹو انفارمیشن بل کا عملی نفاذ کرے گی ، اس ضمن میں 15,16 ستمبر کو بجٹ سیشن کے بعد اگلے سیشن میں رائٹ ٹو انفارمیشن بل پاس کروایا جائے گا اور اس پر 100 فیصد عملدرآمد ہو گا ۔فیاض الحسن چوہان نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق پنجاب میں پہلی بار آرٹ اکیڈمی بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں سیکرٹری اطلاعات کو ہدایات جاری کر دی ہیں جس میں فلم ، ٹی وی ، سٹیج ، گانا سمیت تمام شعبہ جات کی باقاعدہ تعلیم دی جائے گی اور 6 ماہ ، ایک سا ل دو سال کے سرٹیفیکیٹ دئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اشتہارات کے معاملہ پر مائنس پلس نہیں کیا جائے گا اور میرٹ پر اجراء ہو گا ، اس ضمن میں الیکٹرانک میڈیااور پرنٹ میڈیا سمیت تما م متعلقہ سیکٹر کے نمائندوں سے میٹنگز کر کے پالیسی وضع کی جائے گی ۔ سابق حکومت نے میٹرو بس اور اورینج لائن ٹرین کے میگا پراجیکٹس شروع کئے جس سے حکومت پر ہر ماہ اربوں روپے سبسڈی کی مدمیں اضافی بوجھ ڈالا گیا جبکہ ان پراجیکٹس میں بڑے پیمانے پر کرپشن سامنے آئی اس لئے پنجاب حکومت ان منصوبوں کا آڈٹ کرائے گی اور اس کی روشنی میں قانونی کارروائی کرے گی ۔

Translation

اداریہ

آج کی تصویر

مقبول ترین

Whatsapp نیوز سروس

Advertise Here

ضرورت نمائیندگان

روزنامہ جواب

ضرورت نمائیندگان

Coverage

Currency

WP Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com