We are committed to reporting the facts and in all situations avoid the use of emotive terms.

بریکنگ نیوز
english logo

3 دہائیوں سے بنیادی حقوق سے محروم میٹروپولیٹن کارپوریشن ملازمین نئے پاکستان میں بھی محروم

3 دہائیوں سے بنیادی حقوق سے محروم میٹروپولیٹن کارپوریشن ملازمین نئے پاکستان میں بھی محروم

منتخب نمائندہ یونین سی بی اے نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین شدید مسائل سے دوچار، منظور نظر افراد کی ہردور میں چاندی
قابض تنظیم نے ریفرنڈم رکوا کر ایک بار پھر ہزاروں ملازمین کے حقوق سلب کر لئے، ریٹائرڈ ملازمین بڑھاپے میں بھی خوار
لاہور (قیصر مغل ) میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کے 3 دہائیوں سے بنیادی حقوق سے محروم ملازمین کو نئے پاکستان میں بھی حقوق نہیں مل سکے ، تمام ملازمین کی منتخب نمائندہ یونین سی بی اے نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین شدید مسائل سے دوچار ہیں ، مسلم لیگ ن کی پروردہ3 دہائیوں سے میٹروپولیٹن کارپوریشن پر قابض تنظیم نے ریفرنڈم رکوا کر ایک بار پھر ہزاروں ملازمین کے حقوق سلب کر لئے۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن میں اس وقت 4 مختلف ٹریڈ یونینز کام کر رہی ہیں جن میں گریڈ 1 تا 16 کی میٹرو پولیٹن ایمپلائز یونین (خدمت گروپ) ، یونین ملازمین درجہ چہارم، فائربریگیڈ ورکرزیونین اور ایڈمنسٹریٹو سٹاف اینڈ ٹاﺅن یونین شامل ہیں لیکن سب ہی اپنے اپنے طبقات کی نمائندگی کر رہی ہیں جبکہ لیبر قوانین اور پنجاب انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ 2010(پیرا رولز 2010 ئ) کے سیکشن 2(xxix)تحت کسی بھی ادارے میں کیٹگری وائز کسی بھی مخصوص طبقہ کی نمائندہ تنظیم رجسٹرڈ نہیں ہو سکتی تاہم اگر کسی ادارے میں ایک سے زیادہ ٹریڈ یونینز کام کر رہی ہیں توپیرا رولز کے سیکشن 24(2) کے تحت اس ادارے میں سی بی اے یونین کے تعین کےلئے ریفرنڈم لازمی ہو گاوگرنہ کوئی بھی تنظیم ملازمین کی نمائندہ تصور نہیں ہو گی ۔لیکن میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہورمیں پچھلی 3 دہائیوں سے ریفرنڈم نہیں ہوا جس کی وجہ سے کارپوریشن ملازمین کی کوئی منتخب نمائندہ ٹریڈ یونین سامنے نہ آ سکی اور ملازمین مسلسل شدید مسائل اور ذہنی دباﺅ کا شکار رہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں مسلم لیگ ن کا سیاسی قبضہ ہونے کی وجہ سے کی حکومت میٹروپولیٹن کارپوریشن میں بھی مسلم لیگ ن کی حمایت یافتہ تنظیم ایڈمنسٹریٹو سٹاف اینڈ ٹاﺅن یونین دھونس ، دھاندلی ، غنڈہ گردی سے ملازمین میں خوف وہراس پھیلا کر قابض رہی جس نے 1990 کی دہائی سے تاحال ریفرنڈم نہیں ہو نے دیا اورنہ ہی ملازمین کے بنیادی مسائل حل کروائے جس سے ملازمین شدید ذہنی اذیت سے دوچار رہے تاہم اپنے منظور نظر ملازمین کو ترقیاں مراعات سمیت دیگر حقوق دلائے گئے ۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہورمیں آخری بار ریفرنڈم کا اعلان سال 1995 ءمیں ہوا لیکن مسلم لیگ ن کی پروردہ یونین نے اثرو رسوخ اور ملی بھگت سے یہ ریفرنڈم بھی ملتوی کرا دیا ۔ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن میں کام کرنے والی 4 تنظیموں میں سے ایک تنظیم میٹرو پولیٹن ایمپلائز یونین (خدمت گروپ) نے ملازمین کے مسائل کے حل کےلئے کارپوریشن میں ریفرنڈم کروانے کا اعلان کیا اور اس ضمن میں ڈائریکٹر لیبر کو مئی 2017 ءمیں ڈائریکٹر لیبر کو میٹروپولیٹن کارپوریشن میں قانون کے مطابق ریفرنڈم کروانے کےلئے لیٹر لکھا جبکہ دیگر تنظیموں نے ڈائریکٹر لیبر کو ریفرنڈم روکنے کےلئے لیٹر لکھے تاہم 10 جنوری 2018 کو رجسٹرار آف ٹریڈ یونین نے اس ضمن میں فیصلہ دیا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن میں ایک سے زیادی تنظیمیں کام کر رہی ہیں لہذٰا پنجاب انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ 2010 کے مطابق ملازمین کی نمائندہ سی بی اے یونین کے تعین کےلئے پیرا رولز 2010 ءکے سیکشن 24(2) کے تحت چاروں تنظیموں میں ریفرنڈم ہو گا ۔ لیکن مسلم لیگ ن کی پروردہ تنظیم نے ملازمین کے حق پر ایک بار پھر ڈاکہ مارا اور ریفرنڈم رکوانے کےلئے ہائیکورٹ میں رجوع کر لیا جس سے 3 دہائیوں کے بعد نئے پاکستان میں بھی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ملازمین اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہو گئے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہزاروں ملازمین کو کئی دہائیوں سے میڈیکل کی سہولت میسر نہیں ، منظور نظر ملازمین کے سوا کسی کو بھی ترقی نہ مل سکی ، ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن اور گریجوایٹی کی ادائیگی میں بھی صرف منظور نظر افراد کو نوازا جا رہا ہے جبکہ دیگر ملازمین کئی کئی سال شعبہ آڈٹ میں خوار ہوتے رہتے ہیں ۔

Translation

اداریہ

آج کی تصویر

مقبول ترین

Whatsapp نیوز سروس

Advertise Here

ضرورت نمائیندگان

روزنامہ جواب

ضرورت نمائیندگان

Coverage

Currency

WP Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com