We are committed to reporting the facts and in all situations avoid the use of emotive terms.

بریکنگ نیوز
english logo

کرپشن ، اقربا پروری ، سیاسی سفارشیں ، PIA کودس سالوں میں 136 ارب روپے کا نقصان

کرپشن ، اقربا پروری ، سیاسی سفارشیں ، PIA کودس سالوں میں 136 ارب روپے کا نقصان

اسلام آباد (یو این این )ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں پی ائی اے کی دس سالہ آڈٹ رپورٹ جمع کروا دی ہے ، رپورٹ کے 34 پیرے ہیں جس میں کرپشن، اقربا پروری، ادارے میں سیاسی اثررسوخ کو کھل کر بیان کیا گیا ہے۔قومی ایئر لائن کوسال 2008 سے 2017 تک کے دس سالوں کے دوران مجموعی طور پر 136 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکاہے ،ان دس سالوں کے دوران ملک میں دو منتخب حکومتیں ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز برسراقتدار رہی ہیں ۔ اس آڈٹ رپورٹ میں بھی اس جرمن شہری جسے پچھلی نواز حکومت کے دور میں بطور نگران چیف ایگزیگٹو آفیسر تعینات کیاگیا تھااسکی تعیناتی بھی غلط طریقے سے کی گئی تھی اس سے قومی خزانے کوجو نقصان ہوا ہے اس کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جرمن شہری کو 2016میں16 لاکھ پاکستانی روپے کے عوض بطور چیف آپریٹنگ آفیسر تعینات کیا گیا تھا، کچھ عرصہ بعد برنڈ کو 33لاکھ کے عوض نگران چیف ایگزیگٹو آفیسر تعینات کردیا گیاجہاں وہ 2017 تک ایک سال تک کام کرتے رہے اور جب ایف آئی اے نے ایک طیارہ اونے پونے داموں فروخت ہونے کی تحقیقات شروع کیں تو یہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ پرہونے کے باوجود ملک سے چلے گئے اور پھر دوبارہ واپس نہیں آئے ۔ایک اور جرمن شہرہیلموٹ کی 6455 امریکی ڈالرز کے عوض غیر مستقل تعیناتی بھی غیر قانونی طریقے سے کی گئی،یہ تعیناتی بھی ہلڈن برانڈ برنڈ کے دور میں کی گئی تھی، اسی طرح پی آئی اے میں 457 ملازمین جعلی ڈگریوں پر بھرتی کیے گئے ۔ایف آئی اے کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں جن آڈٹ پیروں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں سے ایک قومی ایئر لائن کی انتظا میہ کی جانب سے ریزرویشن بزنس ڈیزیگنیٹرز کے غلط استعمال والا معاملہ ہے جس سے قومی خزانے کو تقریباً 5/4 ارب سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔اسی طرح میسرز ٹرانس ورلڈ ایوی ایشن کے ساتھ سپئیر پارٹس کے غیر شفاف معاہدے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جس سے تقریباً 18ارب سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔بورڈآف ڈائریکٹرز کے فیصلوں پرغیر مناسب طریقے سے عملدرآمد کرنے والے معاملے کوبھی اس رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے جس کی وجہ سے 13ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ گراؤنڈڈ طیاروں کے پرزوں اور دیگرسازوسامان کو استعمال نہ کرنے سے تقریباً 9ارب روپے کا نقصان،جلد بازی میں ڈرائی لیز پر اے ٹی آر ۔7200 طیارے لینے سے تقریباً 8 ارب روپے سے زائد کا نقصان ،مستقل طور پر گراؤنڈ کیے گئے انجنوں کو وقت پر فروخت نہ کرنے سے قومی ایئر لائن کو 6 ارب سے زائد کا نقصان، ملازمین کے علاوہ غیر متعلقہ افرادکو مفت ایئر ٹکٹس دیئے گئے جس سے ساڑھے 5 ارب روپے سے زائدنقصان، میسر ز صابری کے ساتھ 2010 میں یک طرفہ معا ہدہ جس سے ساڑھے 5 ارب روپے سے زائد کا نقصان، ڈرائی لیز پر مہنگے داموں اے ۔320 طیارے خریدنے سے 5ارب سے زائد کا نقصان اے ۔310 طیاروں کی فروخت جس سے قومی خزانے کو تقریباً ساڑھے 3 ارب 50کروڑسے زائد کا نقصان، پریمئر سروس شروع کرنے سے قومی حزانے کو 3 ارب روپے سے زائد کا نقصان ،777بی کیبن کی اپ گریڈیشن کی وجہ سے 2 ارب روپے سے زائد کا نقصان،تکنیکی طور پر نا اہل فرم سے کھانے کی فراہمی کے معاہدے سے تقریباً ایک ارب 73کروڑ کا نقصان ، ایجنٹس کے ڈیفالٹس کر جانے سے 2ارب روپے کا نقصان، پائلٹوں کو زائد تنخواہیں ادا کرنے سے قومی حزانے کو ایک ارب 50 کروڑکا نقصان، اضافی سازوسامان اور پرزوں کے غیر شفاف معاہدوں سے تقریباً ایک ارب 50 کروڑسے زائد کا نقصان،غیر ضروری سازوسامان خریدنے کے فنڈز کو روکے جانے سے ایک ارب 50 کروڑ کا نقصان،طیاروں کی مرمت میں غیر ضروری دیر کی وجہ سے خزانے کو ایک ارب سے زائد کا نقصان،فلائٹ کچن سروسز کو بہتر بنانے کے لیے کنسلٹینسی معاہدے کی وجہ سے 68کروڑ کا نقصان،اے ۔320طیارے کو شامل کر نے کے غیر مناسب معاہدہ ، جس سے 65 کروڑ سے زائد کا نقصان، متعدد بار سسٹم میں ٹکٹوں کے ریفنڈز سے 4 6کروڑ روپے کا نقصان ، ہارڈ بلاک بنیادوں پہ طیارے کی فروخت سے 58کروڑ کا نقصان،غیر ضروری سپئیر پارٹس کو مہنگے داموں خریدنے کے معاہدوں سے 37کروڑ کا نقصان،مبینہ طور پرملی بھگت سے ۔310 اے طیارے کو فروخت کرنے سے تقریباً 23 کروڑ کا نقصان، نواب شاہ میں فلائنگ اکیڈمی بنانے سے 16کروڑ سے زائد کا نقصان میسرز ورلڈ ایوی ایشن کے ساتھ غیر مجاز سائڈ لیٹر کے معاہدے سے 13کروڑ کا نقصان،رینٹ بنیادوں پر ا?ئی پیڈزحاصل کرنے سے 10کروڑ کا نقصان،سلیم سیانی کی بطورڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر غیر مستقل تعیناتی اورزائد تنخواہوں کی مد میں 9 کروڑ روپے کا نقصان ،ایسے آلات جو کبھی پی آئی اے کو موصول ہی نہیں ہوئے ان کی ایڈوانس ادائیگی سے 6 کروڑ کا نقصان،کھانے کے رعایتی نرخوں کی مد میں اضافی ادائیگیوں سے 4کروڑ کا نقصان،ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں سپریم کورٹ کومزید یہ بھی بتایا ہے کہ مبینہ طور پر ان غیر قانونی کاموں کے پیچھے چھپے محرکات کو جاننے ، ذمہ داروں کا تعین کرنے اور اصل ملزمان کو پکڑنے کے لیے کراچی میں الگ سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے ،یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے کرپشن مکاؤ سلوگن پہ ہی حکومت حاصل کی اب عوام کا ہر دن اسی آس میں گزرتا ہے کہ کیا کرپٹ عناصر پکڑے جائیں گے؟

Translation

اداریہ

آج کی تصویر

مقبول ترین

Whatsapp نیوز سروس

Advertise Here

ضرورت نمائیندگان

روزنامہ جواب

ضرورت نمائیندگان

Coverage

Currency

WP Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com