We are committed to reporting the facts and in all situations avoid the use of emotive terms.

بریکنگ نیوز
english logo

چین میں اویغور اقلیت اور مسلمانوں کے ساتھ "ریاست کے دشمنوں” جیسا برتاؤ

چین میں اویغور اقلیت اور مسلمانوں کے ساتھ "ریاست کے دشمنوں” جیسا برتاؤ

جنیوا(یو این این)اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ اْسے بہت سی مصدقہ رپورٹیں موصول ہوئی ہیں کہ چین میں اویغور اقلیت کے تقریبا دس لاکھ افراد کو ایک بہت بڑے خفیہ حراستی کیمپ نما مقام پر تحویل میں رکھا گیا۔ اقوام متحدہ میں نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی کی رکن جائے مکڈوجل نے بتایا کہ چین میں اویغور اور مسلم اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے دس لاکھ کے قریب افراد کو ملک کے مغرب میں واقع خود مختار علاقے شنکیانگ میں "سیاسی نظریے کی جبری تلقین” کے کیمپوں میں داخل ہونے پر مجبور کیا گیا۔ خاتون رکن نے بتایا کہ "ہمیں اس بارے میں موصول ہونے والی باوثوق رپورٹوں نے گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ چین نے اویغور کے خود مختار علاقے کو ایک بہت بڑے تربیتی کیمپ جیسی شکل دے دی ہے اور مذہبی شدت پسندی کے انسداد کے نام پر اس علاقے کو "No Rights Zone” شمار کر کے اسے مکمل طور پر مخفی رکھا گیا ہے”۔ چین کا کہنا ہے کہ شنکیانگ کے علاقے کو اسلامی شدت پسندوں اور علائیدگی پسندوں کا سامنا ہے جو حملوں اور مسلم اکثریتی اقلیت اویغور کے بیچ کشیدگی بھڑکانے کی سازش پر عمل پیرا ہیں۔ ادھر اقوام متحدہ میں امریکی مشن نے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ "ہم چین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی اس پالیسی کو ختم کرے جس کے برعکس نتائج سامنے آ رہے ہیں اور ساتھ ہی تمام جبری گرفتار شدگان کو فوری طور پر رہا کرے”۔ چین میں انسانی حقوق کے دفاع کی ایک تنظیم نے گزشتہ ماہ اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ 2017ء میں چین میں ہونے والی مجموعی گرفتاریوں میں 21 فیصد شنکیانگ کے علاقے میں ہوئیں۔ جنیوا میں اقوام متحدہ میں چین کے سفیر یوجیان ہووا کا کہنا ہے کہ ان کا ملک تمام نسلی جماعتوں کے درمیان مساوات اور یک جہتی کو یقینی بنانے پر کام کر رہا ہے۔ تاہم جائے مکڈوجل نے باور کرایا ہے کہ چین میں اویغور اقلیت اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ اْن کی نسلی اور مذہبی شناخت پر "ریاست کے دشمنوں” جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مصر اور ترکی سے واپس آنے والے 100 اویغور طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا جن میں سے بعض دوران حراست فوت ہو گئے۔ اقوام متحدہ میں نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی کی ایک واتیما بنتا داہ نے چینی وفد سے استفسار کیا کہ "چین میں اس وقت اویغور اقلیت کو حاصل مذہبی آزادی کی سطح کیا ہے اور اپنے مذہب پر عمل کے حوالے سے اْنہیں کتنا قانونی تحفظ حاصل ہے؟”

Translation

اداریہ

آج کی تصویر

مقبول ترین

Whatsapp نیوز سروس

Advertise Here

ضرورت نمائیندگان

روزنامہ جواب

ضرورت نمائیندگان

Coverage

Currency

WP Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com