We are committed to reporting the facts and in all situations avoid the use of emotive terms.

بریکنگ نیوز
english logo

پنجاب حکومت وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں انٹی کرپشن کمیٹی قائم نہ کر سکی، انٹی کرپشن ’’پرانی روش ‘‘پر

پنجاب حکومت وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں انٹی کرپشن کمیٹی قائم نہ کر سکی، انٹی کرپشن ’’پرانی روش ‘‘پر

وزیر قانون نے اعلان کیا تھا کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی میں چیف سیکرٹری سمیت 11 افراد شامل کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے
انٹی کرپشن نے وزیر قانون کا میڈیا رپورٹس پر از خودنوٹس کا حکم ہوا میں اڑا دیا ،کالی بھیڑوں کیخلاف بھی کارروائی نہ ہو سکی
وزیر قانون کا کرپشن میں ملوث انٹی کرپشن افسران و ملازمین کیخلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کا دعویٰ بھی زبانی جمع خرچ نکلا
سابق دور حکومت میں رولز اینڈ ریگولیشن اور میرٹ کو روندتے ہوئے سیاسی سفارشوں پرانٹی کرپشن میں تعیناتیاں کی گئیں
میرٹ کیخلاف آنے والوں کے اپنے خلاف ہی انٹی کرپشن میں متعدد انکوائریاں،تعیناتی کے بعد متعدد نے انکوائریاں داخل دفتر کر دیں
پنجاب حکومت کی نگرانی والے کیسز پر انکوائری شائد میرٹ پر ہو رہی ہو باقی کیسز پر ’’انٹی کرپشن میں کرپشن‘‘ ماضی ہی کی طرح جاری
پنجاب حکومت افسران کی ’’ سب اچھا ہے‘‘ رپورٹ تک محدود،احتسابی عمل وزیر اعظم کے خواب تک محدود ہو کر رہ گیا ہے ، ذرائع کا دعویٰ

لاہور (قیصر مغل ) پی ٹی آئی کا احتساب کا نعرہ محض انتخابی نعرہ ثابت ہوااور پنجاب میں کرپشن کیخلاف کارروائی کا عمل رک گیا ، احتساب کے دعوے پر قائم ہونے والی حکومت ،پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں انٹی کرپشن کمیٹی بنانے کے اپنے ہی فیصلے پر عملدرآمد نہ کر سکی ۔پنجاب حکومت اور وزیر قانون کی عدم دلچسپی کے باعث انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے حکومتی احکامات کو ہوا میں اڑا دیا ، ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن وزیر قانون کے حکم کے باوجود میڈیا رپورٹس پر ازخود نوٹس کا عمل شروع نہیں کر سکے اور نہ ہی انٹی کرپشن میں موجود کالی بھیڑوں کو نکال باہر کر سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر قانون بشارت راجہ نے حلف اٹھانے کے چند دنوں بعد اعلان کیا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کے کرپشن سے پاک پاکستان کے ویژن کو عملہ جامہ پہنانے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر رہے ہیں، لیکن 2 ماہ بعد بھی اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا ۔صوبائی وزیر قانون بشارت راجہ نے ستمبر 2018 میں انٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر کا خصوصی دورہ کیا اور ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ بھی کی جس میں انہوں نے ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب کو حکم دیا کہ میڈیا رپورٹس کو بطور سورس رپورٹ استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کی جائیں تاکہ پنجاب سے کرپشن کے خاتمہ کو یقینی بنایا جا سکے ۔انہوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں احتساب کا عمل بہتر بنانے کے لئے صوبائی اینٹی کرپشن کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ حکومت کرپشن کیخلاف احتساب کے وعدے کو عملی جامہ پہنا سکے ۔صوبائی وزیر نے کہاکہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں ، اینٹی کرپشن سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر قانون کی بالا دستی کیلئے قانون کے مطابق کام کرے ۔ موجودہ حکومت صوبے میں کرپشن کے خاتمہ کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی اور اس ضمن میں کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا ۔ صوبائی وزیر نے حکم دیا کہ اینٹی کرپشن پنجاب سورس رپورٹ پر سومو ایکشن لیکر تحقیقات کرے، چیف جسٹس پاکستان کے سوموٹو نوٹس لینے سیب کریں گے جبکہ چیف سیکرٹری ، سیکرٹری داخلہ سمیت 11 افراد کمیٹی میں شامل ہوں گے ، کمیٹی قائم ہونے سے پنجاب میں اینٹی کرپشن کی کارکردگی مزید بہتر ہو گی اور کرپٹ مافیا کیفر کردار تک پہنچے گا ۔ صوبائی وزیر نے واضع کیا کہ اگر اینٹی کرپشن کے افسران و ملازمین میں سے کوئی بھی کرپشن میں ملوث پایا گیا اس کیخلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی ، انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کو نہیں نکالیں گے کرپشن کے خاتمہ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا ۔یہ امر حیران کن ہے کہ احتساب کے نعرے اور دعوے بلند کرنے والی حکومت تاحال ذاتی پسند و ناپسند کے افسران کی تعیناتی میں الجھی ہوئی ہے اورتین ماہ بعد بھی ردوبدل کا عمل ختم نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے پنجاب میں حکومتی سطح پر احتسابی عمل شروع ہی نہیں کیا جا سکا۔ذرائع نے نے کہا ہے کہ انٹی کرپشن میں اس وقت بیسیوں افسران و ملازمین میرٹ کو پامال کر کے بیٹھے ہوئے ہیں جو سابق دور حکومت میں سیاسی سفارشوں پر ڈیپوٹیشن پر انٹی کرپشن آئے ، ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں خود ان کیخلاف انٹی کرپشن میں ہی متعدد انکوائریاں چل رہی ہیں اور انہوں نے انٹی کرپشن میں تعیناتی کے بعد سب سے پہلے اپنے خلاف انکوائریوں کو داخل دفتر کیا۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انٹی کرپشن میں صرف ایسے کیسز جن کی نگرانی پنجاب حکومت کر رہی ہے ان پر انکوائری شائد میرٹ پر ہو رہی ہو باقی کیسز پر کرپشن ماضی ہی کی طرح جاری ہے ، لیکن حکومت صرف افسران سے ملنے والی سب اچھا ہے کی رپورٹ تک محدود ہے جس سے پنجاب میں احتسابی عمل وزیر اعظم عمران کے خواب تک محدود ہو کر رہ گیا ہے

Translation

اداریہ

آج کی تصویر

مقبول ترین

Whatsapp نیوز سروس

Advertise Here

ضرورت نمائیندگان

روزنامہ جواب

ضرورت نمائیندگان

Coverage

Currency

WP Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com