We are committed to reporting the facts and in all situations avoid the use of emotive terms.

بریکنگ نیوز
english logo

پاکستان علماء کونسل کی حجاج کرام کی رہنمائی کے لیے تربیتی نشستیں

پاکستان علماء کونسل کی حجاج کرام کی رہنمائی کے لیے تربیتی نشستیں

لاہور (یو این این )پاکستان علماء کونسل نے اکابر علماء کی مشاورت اور دارالافتاء پاکستان کے تعاون سے حجاج بیت اللہ الحرام اور زائرین حرمین الشریفین کی رہنمائی کے لیے موجودہ حالات کے تناظر میں تربیتی نشستوں کو اہتمام کیا جس میں حجاج کرام اور زائرین کی خدمت میں ایک ضابطہ پیش کیا گیا جس کا مقصد حجاج کرام اور زائرین کی ہر ممکن رہنمائی کی کوشش کرنا ہے۔ پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی صدارت میں ہونے والے دارالافتاء پاکستان اور پاکستان علماء کونسل کے ذمہ داران کے اجلاس کے بعد جاری کردہ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ عالم اسلام کی اضطرابی کیفیت ، مشرق وسطیٰ کے حالات ، عرب ممالک میں دہشت گردی اور انتہاء پسندی کو فروغ دینے کیلئے بیرونی ممالک کی سازشوں اور ارض الحرمین الشریفین پر ہونے والے مسلسل حملوں کے بعد حجاج کرام اور زائرین کیلئے لازم ہو جاتا ہے کہ وہ مندرجہ ذیل ضابطہ اخلاق کو اپنے لیے لازم پکڑیں۔ قرآن کریم اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جس کو اللہ حج کی توفیق دے اور وہ حج کے دوران کسی قسم کا جھگڑا اور فساد نہ کرے اور کسی قسم کے فسق و فجور میں مبتلا نہ ہو اور فحش گوئی سے پرہیز کرتا رہا ہو تو وہ حج کے بعد ایسا ہی ہو گا جیسے ابھی اس کی ماں نے اسے جنم دیا۔ قرآن کریم اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والی تعلیمات کی روشنی میں حجاج اکرام اور زائرین پر لازم ہے کہ وہ اپنے حج اور زیارت کے وقت کو زندگی کا قیمتی ترین وقت سمجھیں اور حج اور زیارت کے آداب کا خصوصی طور پر خیال رکھیں۔حج یا عمرہ کے لیے روانہ ہوتے وقت اپنی نیت کو خالص اللہ کیلئے کر لیں کہ ہمارا یہ حج یا عمرہ اللہ ہی کیلئے ہے اور اس کا مقصد دنیا کی نمود و نمائش نہیں ہے اور حتیٰ الامکان عبادت کی ویڈیو اور تصاویر سے اجتناب کریں۔حج اور عمرہ پر روانگی سے قبل حج اور عمرہ کے بار ے میں مکمل معلومات حاصل کر لینی چاہئیں اورا گر معلومات حاصل نہیں کیں تو پھر سفر کے دوران کسی جاننے والے سے ضرور رہنمائی لے لینی چاہیے تا کہ مناسک حج اور عمرہ میں مشکلات پیش نہ آئیں اور معلومات کے حصول کیلئے کسی قسم کی گھبراہٹ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ حج یا عمرہ پر روانگی کے وقت جو طریقہ کار اور ضابطہ وزارت مذہبی امور یا حج ، عمرہ گروپ کے رہنماؤں نے مرتب کیا ہو اسی کی رہنمائی میں حج ، عمرہ کے سفر کو مرتب کریں اگرچہ اس میں آپ کے مزاج کے خلاف ہی کوئی چیز کیوں نہ ہو۔ حج اور عمرہ کا بنیادی مقصد ہی اپنی انا ، تکبر کو قربان کر کے اللہ رب العزت کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنا ہے او ر اس بات کا اقرار اور اظہار کرنا ہے کہ میں آپ کا بندہ ہوں اور آپ میرے خالق ہیں اور آپ کے حکم کے مطابق ہی مجھے زندگی بسر کرنی ہے اور آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور سیرت کو اپنا تے ہوئے دنیاوی لذتوں کو چھوڑ کر ان دو سفید چادروں کو اختیار کر رہا ہوں اور لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کر کے اپنی عاجزی ، انکساری اور بندگی کا اعلان کر رہا ہوں۔ٍ سعودی عرب کی وزارت حج ، وزارت داخلہ کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وہ حجاج اکرام اور زائرین کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولتیں پیدا کرے ۔ گذشتہ 87 سال سے سعودی عرب کے ہر حکمران نے حجاج اکرام اور زائرین کو سہولتیں دینے کیلئے اپنی بساط کے مطابق کوششیں کی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ اپنے آپ کو بادشاہ کہلوانے کی بجائے خادم الحرمین الشریفین کہلوانے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور خود خادم الحرمین الشریفین اور ان کے ولی عہداور ان کی حکومت کے باقی ذمہ داران حجاج اور زائرین کیلئے ہر قسم کی سہولتیں پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔جب حجاج ، زائرین سعودی عرب کے کسی بھی ائیر پورٹ پر پہنچ جائیں تو اس بات کا احساس اور ادراک رکھیں کہ ان ہی کی طرح کے لاکھوں حجاج اس ائیر پورٹ پر موجود ہیں اور سعودی عرب کے امیگریشن ، کسٹم کے حکام کی اولین ترجیح یہی ہے کہ وہ جلد از جلد حجاج اکرام کو قانونی معاملات سے فارغ کر کے ان کی منزل کی طرف روانہ کریں۔ ائیر پورٹ پر اور ائیر پورٹ سے روانگی میں ہونے والی تاخیر پر پریشان ہونے کی بجائے اللہ کا ذکرکریں ، لبیک اللھم لبیک کی صدائیں لگائیں اور کثرت سے درود شریف پڑھیں اور اس بات کا احساس اور ادراک رکھیں کہ حج میں مشکلات آتی ہیں اور ان مشکلات پر صبر کرنا ہی حج کے اجر کا سبب بنے گا۔ ائیر پورٹ سے روانگی کے بعد معلم کے دفاتر میں پہنچنا اور وہاں سے اپنی رہائش گاہوں تک منتقل ہونا بھی کافی صبر آزما مرحلہ ہے لیکن جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ حج میں مشکلات آتی ہیں اور مشکلات پر صبر کرنا ہی حج کے اجر کو بڑھاتا ہے چونکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں لاکھوں حجاج ایک وقت میں سفر کر رہے ہوتے ہیں لہذا سڑکوں پر رش ہونا اور ٹریفک کے نظام میں بار بار خلل واقع ہونا ایک فطری امر ہے جس کا حجاج اکرام اور زائرین کو ادراک اور احساس ہونا چاہیے۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے سعودی عرب کی وزارت حج اور وزارت داخلہ کے قوانین کی مکمل پاسداری کرنا حجاج اکرام پر لازم ہے۔اگر تیس لاکھ لوگ قانون کی پابندی نہ کریں اور اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق وقت گزارنے کی کوشش کریں تو اس سے افرا تفری اور فساد کی کیفیت پیدا ہو گی جس کو قرآن و سنت نے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔علماء ، فقہاء ،مفسرین ، محدثین اور مفتیان عظام نے حرمین الشریفین میں رش کی موجودگی میں خواتین کو اپنے کمروں میں نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ انشاء اللہ ان کو اپنے کمرے میں نماز کی ادائیگی کا اجر بھی اللہ تبارک و تعالیٰ حرمین الشریفین میں نماز کی ادائیگی کا ہی عطا فرمائیں گے کیونکہ وہ اپنی نمازیں حدود حرم میں ادا کر رہی ہیں اور یہی حکم ضعفاء اور مریضوں کیلئے ہے ۔عالمی حالات کے تناظر میں بعض قوتیں حج کے دوران سعودی عرب میں اور بالخصوص مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ ، منیٰ اور عرفات میں سیاسی میدان لگانے کی کوشش کر سکتی ہیں ۔ ان قوتوں کا مقصد صرف اور صرف حرمین الشریفین کے امن کو تباہ کرنا اور حجاج اکرام کیلئے مشکلات پیدا کرنا ہے۔ ایسا کرنے والے افراد ، گروہوں ، جماعتوں سے مکمل دور رہیں اور اگر آپ کے علم میں اس طرح کی کوئی بات آ جائے تو اپنے گروپ کے قائد کو اس سے ضرور آگاہ کریں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔اسی طرح بعض گروہ اور افراد حج کے مسائل کے معاملے میں حجاج کی بلڈنگوں میں آ کر ان کو ایسے مسائل کے بارے میں بتاتے ہیں جو ان کو ان کے علماء اور مشائخ نے نہیں بتائے ہوتے ، ایسی صورت میں جھگڑا کرنے کی بجائے ان افراد سے دور رہا جائے اور ان کو بتا دیا جائے کہ ہماری رہنمائی ہمارے علماء نے کی ہے لہذا ہمیں آپ اپنی تعلیمات سے آگاہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔منیٰ ، عرفات، اور مزدلفہ آتے اور جاتے ہوئے اپنے گروپ کے قائد کی ہدایات کو واضح پکڑیں ، کسی قسم کی جلد بازی نہ کریں کیونکہ جلد بازی کے نتیجہ میں خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟اسی طرح رمی جمرات کے معاملہ پر بھی قافلے میں شریک علماء اور گروپ قائد کی ہدایات کو مد نظر رکھیں اور جلد بازی نہ کریں۔ رمی جمرات کے مسئلہ پر علماء اکرام اور مفتیان عظام نے عورتوں ، بیماروں اور ضعیفوں کیلئے شریعت اسلامیہ کی روشنی میں جو سہولتیں بتائی ہیں ان سہولتوں کو مد نظر رکھیں اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کیلئے سہولتیں دی ہیں تو پھر ان سہولتوں کو اختیار کرنا چاہیے اور اپنے لیے مشکلات پیدا نہیں کرنی چاہئیں۔ اجلاس میں مولانا محمد ایوب صفدر ، مولانا عبد الکریم ندیم ، مولانا عبد الحمید وٹو ، قاضی مطیع اللہ سعیدی، مولانا اسد اللہ فاروق ، مولانا محمد شفیع قاسمی ، مولانا اسعد زکریا، مولانا محمد اشفاق پتافی، حاجی طیب شاد قادری، مولانا اسید الرحمن سعید، مفتی عمر فاروق اور دیگر بھی موجود تھے۔

Translation

اداریہ

آج کی تصویر

مقبول ترین

Whatsapp نیوز سروس

Advertise Here

ضرورت نمائیندگان

روزنامہ جواب

ضرورت نمائیندگان

Coverage

Currency

WP Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com