We are committed to reporting the facts and in all situations avoid the use of emotive terms.

بریکنگ نیوز
english logo

وزیر صحت کا میڈیکل تعلیمی نصاب میں بہتری کے لئے ٹاسک فورس بنانے کا اعلان

وزیر صحت کا میڈیکل تعلیمی نصاب میں بہتری کے لئے ٹاسک فورس بنانے کا اعلان

پروفیسر صاحبان اپنے سٹوڈنٹس کو بتائیں کہ وہ مریضوں کے ساتھ کمیونیکیشن سکل بہتر بنائیں
موجوہ حکومت ’صحت دوست‘ ہے، مریض کو بلاضرورت انجیکشن لگانے کی روایت ٹھیک نہیں،ڈاکٹر یاسمین راشد

لاہور(یو این این)وزیر صحت پنجاب پروفیسرڈاکٹر یاسمین راشدنے میڈیکل تعلیمی نصاب میں بہتری کے لئے ٹاسک فورس بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیچنگ اداروں کے اساتذہ اپنے سٹوڈنٹس کو بتائیں کہ وہ مریضوں کے ساتھ کمیونیکیشن سکل بہتر بنائیں۔ شفا اللہ تعالیٰ نے دینی ہوتی ہے لیکن ہسپتال میں مریض کو مناسب رہنمائی فراہم کردی جائے تو اس کی آدھی پریشانی دور ہوجاتی ہے۔ علامہ اقبال میڈیکل کالج میں سائنس کانفرنس ’’ایم کون‘‘ (AimCon) کے افتتاحی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب میں انہوں نے کہا کہ کمیونیکیشن سکل یا مریضوں سے طرز عمل میں بہتری کے لئے ایک کتابچہ بھی تیار کیا گیا جس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ ’’ایم کون‘‘ میں پرنسپل پروفیسر عارف تجمل، آرگنائزر پروفیسر آفتاب محسن سمیت بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔ ڈاکٹر یاسمین راشد سائنسی کانفرنس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایم کون‘‘ میں امریکہ، برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے ماہرین کی شرکت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اور عام آدمی میں فرق ہی یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر نے دباؤ میں بھی اپنے فرائض کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ مریض پریشانی کی حالت میں اللہ کے بعد صرف ڈاکٹر سے ریلیف کی امید رکھتا ہے۔ اس کی امید ختم نہیں ہونی چاہیئے۔ میڈیکل تعلیمی نصاب میں بہتری کے لئے ٹاسک فورس میں سنیئر پروفیسر شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ موجوہ حکومت ہر لحاظ سے ’صحت دوست‘ ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا میں طبی ماہرین کی غفلت سے اموات کی شرح کافی زیادہ ہے۔ مریض کو بلاضرورت انجیکشن لگانے کی روایت ٹھیک نہیں۔ تھیلیسیمیا کا مریض غیرمحفوظ انتقال خون سے مزید بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کانفرنس میں ایسے طبی مسائل کا جائزہ لے کر سفارشات تیار کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی میڈیکل ایجوکیشن کے معیار کا پوری دنیا اعتراف کرتی ہے۔ میڈیکل معیار تعلیم کو عالمی سطح پر بدلتے حالات سے ہم آہنگ ہونا چاہیئے۔یہی وجہ ہے کہ میڈیکل تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے انہیں خودمختاری دینے پر غورکر رہی ہے۔کانفرنس میں شریک معروف پروفیسروں کو خوش آمدید کہتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ اپنے علم کو آگے پھیلانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔ ایک دوسرے کے تجربے کی باہمی شراکت ضروری ہے۔ بیرون ملک اعلیٰ علوم سیکھ کر پاکستان واپس آنے والے طبی ماہرین قابل تعریف ہیں۔پروفیسرز اور میڈیکل کے سٹوڈنٹس کی جدید سائنسی ریسرچ سے آگاہی وقت کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک سے آنے والے ماہرین کی ریسرچ سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

Translation

اداریہ

آج کی تصویر

مقبول ترین

Whatsapp نیوز سروس

Advertise Here

ضرورت نمائیندگان

روزنامہ جواب

ضرورت نمائیندگان

Coverage

Currency

WP Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com