We are committed to reporting the facts and in all situations avoid the use of emotive terms.

بریکنگ نیوز
english logo

ایف آئی اےمیں صنفی تقسیم نمایاں ،خواتین افسران’’ نئے پاکستان ‘‘میں بھی حقوق سے محروم

ایف آئی اےمیں صنفی تقسیم نمایاں ،خواتین افسران’’ نئے پاکستان ‘‘میں بھی حقوق سے محروم


لاہور ( قیصر مغل ) قانون نافذ کرنے والی ایجنسی ایف آئی اے نے قانون کی دھجیاں بکھیرنی شروع کر دیں، رشوت ، اقربا پروری اور سفارش کی دلدل میں دھنسی فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی حکام نے سپریم کورٹ کے احکامات کو روندتے ہوئے خواتین اہلکاروں کو حقوق سے محروم کر دیا ۔ سال 2002 ء میں بھرتی ہونے والی بیسیوں فی میل اے ایس آئی کو سپریم کورٹ احکامات کے باوجود سنیارٹی لسٹ میں بھرتی کی تاریخ سے شامل نہیں کیا اور متعلقہ اہلکاروں نے بھاری رشوت لے کر توہین عدالت کا ارتکاب کرتے ہوئے خواتین اہلکاروں کو لسٹ میں جونیئر کر دیا،اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدہ پرآئندہ ہونے والی ترقی کیلئے فائنل ہونے والی سنیارٹی لسٹ میں بھی خواتین اہلکاروں کو مرد اہلکاروں سے جونیئر کر کے ان کو ترقی سے محروم کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق سال2002ء میں تقریبا 40 خواتین اے ایس آئیز کا بیج مرد اہلکاروں کے ساتھ بھرتی ہوا جس کے ایک سال بعد جب پہلی سنیارٹی لسٹ کمبائن تیار ہوئی کیونکہ مرد و خواتین اہلکار ایک ہی وقت میں بھرتی ہوئے تھے ، تاہم سال 2007 ء میں پرموشن کے وقت خواتین اہلکاروں کو کمبائن سنیارٹی لسٹ سے نکال دیا گیا اور خواتین اہلکاروں کے حقوق غضب کرتے ہوئے تمام مرد اہلکاروں کو ترقی دیدی گئی ۔ اس حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے کہ مرد اہلکاروں نے متعلقہ سٹاف کوبھاری رشوت دے کر خواتین اہلکاروں کو کمبائن سنیارٹی لسٹ سے نکلوایا تا کہ تمام مرد اہلکاروں کو ترقی مل سکے۔متاثرہ خواتین اہلکاروں نے ایف آئی اے حکام کے اس امتیازی سلوک کے خلاف فیڈرل سروسز ٹربیونل میں درخواست دیدی لیکن فیڈرل سروسز ٹربیونل نے فیصلہ کرنے کی بجائے کیس واپس ایف آئی اے کو بھیج دیا ۔ جس پر متاثرہ خواتین اہلکاروں نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا، سپریم کورٹ نے سال 2013 ء میں کیس فیڈرل سروسز ٹربیونل کو بھیج کر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا ، فیڈرل سروسز ٹربیونل نے 8 اپریل 2015 ء کو سپریم کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد کرتے خواتین اہلکاروں کے حق میں فیصلہ دیدیالیکن ایف آئی اے حکام نے اس فیصلہ کی مخالفت کی اور اس پر عملدرآمد نہ ہونے دیا ۔ سال 2015 میں ہی خواتین اہلکاروں نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی رٹ دائر کر دی جس پر ایف آئی اے حکام نے 2016 ء کو سپریم کورٹ کے حکم پر خواتین اہلکاروں کو دیگر بیج میٹ کی طرح سال 2007 ء سے سب انسپکٹرز کے عہدوں پر ترقی دیدی اور 14 جولائی 2016 کو کمبائن سنیارٹی لسٹ فیڈرل سروس ٹربیونل میں جمع کرا دی ۔9 اکتوبر 2017 کو ایف آئی اے حکام نے نوٹیفیکیشن نمبر No.G-14/Admn-II/2016/5498-5513 کے ذریعے اپنا پہلا نوٹیفیکیشن منسوخ کرتے ہوئے پھر خواتین اہلکاروں کے حقوق کی پامالی کرتے ہوئے انہیں سب انسپکٹرز کی فائنل لسٹ سے نکال دیا اور متعلقہ اہلکاروں نے ایک بار پھر مد اہلکاروں سے بھاری رشوت لیتے ہوئے غیر قانونی طور پر سنیارٹی لسٹ پر 2007 ء کی بجائے 2009 ء کے رولز لگا دئے ، خواتین اہلکار اس ناانصافی کیخلاف بارہا فیڈرل سروسز ٹربیونل سے رجوع کیا لیکن بے سود ، جس پر خواتین اہلکاروں نے دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایف آئی اے انتظامیہ خواتین اہلکاروں کیخلاف سپریم کورٹ گئی لیکن سپریم کورٹ نے کیس خارج کر دیا ۔سال 2018 ء میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر ترقی کیلئے سنیارٹی لسٹ تیار کی گئی تو اس میں سال 2017 ء میں ڈائریکٹ بھرتی ہونے والے انسپکٹرز کو خواتین اہلکاروں سے سینئر کر دیا گیا ۔ ذرائع نے کہا کہ ایف آئی اے حکام نے خواتین حقوق کی پامالی اور سپریم کورٹ کے حکم کو نہ مانتے ہوئے از خود کوٹہ سسٹم بنا دیا اور خواتین کو محض 5 فیصد کوٹہ دیتے ہوئے مرد اہلکاروں کو 95 فیصد کوٹہ دیدیا، اسی خودساختہ کوٹہ سسٹم کے تحت سا ل 2010 ء میں انسپکٹر کے عہدہ پر ترقی کے وقت صرف 3 خواتین اہلکاروں کو ترقی دی گئی ، سال 2018 میں جب جو سنیارٹی لسٹ فائنل کی گئی تو اس میں بھی خواتین اہلکاروں اچھوت سمجھا گیا اور انہیں سال 2017 ء میں ڈائریکٹ بھرتی ہونے والے انسپکٹرز سے جونیئر کردیا ۔ذرائع کا کہنا ہے ایف آئی اے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدہ پر ترقی کے لئے آنے والے دنوں میں بورڈ ہونے والا ہے جس کیلئے سنیارٹی لسٹ فائنل کردی گئی ہے اور کہا یہ جا رہا ہے کہ ایڈمن ون کے سٹینو نعیم اور سپرنٹنڈنٹ ساقی نے مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر خواتین اہلکاروں کواسسٹنٹ ڈائریکٹر کی پرموشن کیلئے فائنل کی گئی کمبائن سنیارٹی لسٹ میں جونیئر کر دیا ہے ۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اس غیر قانونی اقدام میں ایڈیشنل ڈائریکٹر علی شیر جھکرانی (جن کے پاس ڈائریکٹر لاء کا ضافی چارج ہے )ملوث نہیں تو یہ ان کی نااہلی ہے کہ وہ اپنے عملہ کے معاملات اور مسائل سے نہ صرف لاعلم بلکہ لاتعلق ہیں اورجانے انجانے میں توہین عدالت کا ارتکاب کرتے ہوئے خواتین اہلکاروں پر ظلم کر رہے ہیں ۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سال 2018 اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدہ پر ترقی دینے کا عمل بھی مشکوک اور غیر قانونی ہے کیونکہ یہ پرموشن کا عمل سنیارٹی لسٹ کے بغیر ہوا اور سٹینو نعیم وغیرہ نے اس وقت بھی بھاری رشوت لے کر سنیارٹی لسٹ جاری نہیں کی اور مخصوص افراد کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدہ پر ترقی دی گئی۔ اس ضمن میں جب ڈیلی فرنٹیئر پوسٹ نے سپرنٹنڈنٹ ساقی سے رابطہ کیا تو انہوں نے اپنے اوپر الزامات کو مسترد کردیا ، تاہم سال 2018 ء میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدہ پر ترقی کے وقت سنیارٹی لسٹ جاری نہ کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اب اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدہ پر ترقی کیلئے سنیارٹی لسٹ جاری کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ سنیارٹی لسٹ میں اگر کوئی گڑبڑ ہے تو میرے علم میں نہیں میں اس کو چیک کروں گا ۔جب اس بارے میں ایڈیشنل ڈائریکٹر علی شیر جھکرانی (ایڈیشنل چارج ڈائریکٹر لاء ) علی شیر جھکرانی سے رابطہ کیا گیا توسوال سن کر وہ بھڑک اٹھے اور کہا کہ یہ میرا مسئلہ ہے میں دیکھ لوں گا ، میل اور فی میل دونوں میرے بچوں کی طرح ہیں میں کسی سے زیادتی نہیں ہونے دوں گا ، آپ اس ایشو پر بات نہ کریں ۔

Back to Conversion Tool

Urdu Home

Translation

اداریہ

آج کی تصویر

مقبول ترین

Whatsapp نیوز سروس

Advertise Here

ضرورت نمائیندگان

روزنامہ جواب

ضرورت نمائیندگان

Coverage

Currency

WP Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com