We are committed to reporting the facts and in all situations avoid the use of emotive terms.

بریکنگ نیوز
english logo

لودھراں، چشتیاں، رینالہ خورداور اوکاڑہ میں آئندہ ماہ 12 ہزار سستے گھروں کی تعمیرکا آغاز

لودھراں، چشتیاں، رینالہ خورداور اوکاڑہ میں آئندہ ماہ 12 ہزار سستے گھروں کی تعمیرکا آغاز

نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام اور اخوت فاؤنڈیشن کے باہمی اشتراک سے 10 ہزار گھروں کی تعمیر کا منصوبہ آئندہ جون تک مکمل کیا جائیگا
اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ ہاؤسنگ آفیسرز اور مقامی سیاسی شخصیات پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں ،سفارشات جلد پیش کریں
کلین ڈرنکنگ واٹر اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ ،لاہور میں محمود بوٹی، شاد باغ، بابو صابو اور موہلنوال میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے جائیں گے
سالانہ ترقیاتی منصوبے کے تحت یہی علاقوں میں 12 ارب کی لاگت سے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کا آغاز کیا جا رہا ہے
لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں 6000 کم قیمت گھروں کی تعمیر کا آغاز ہو گا ، صوبائی وزیر ہاؤسنگ محمود الرشید کی پریس بریفنگ
لاہور(یو این این )صوبائی وزیر ہاؤسنگ، اربن ڈیویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میاں محمود الرشید کی سو روزہ پلان کے حوالے سے میڈیا بریفنگ ڈی جی پی آر کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی۔ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمود الرشید نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے تحت لودھراں، چشتیاں اور رینالہ خورد، اوکاڑہ میں آئندہ ماہ 12 ہزار سستے گھروں کی تعمیر شروع کر دی جائے گی جس کے لیے باقاعدہ درخواستیں 10 جنوری تک وصول کرینگے۔ اس سکیم کا افتتاح وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔ علاوہ ازیں نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام اور اخوت فاؤنڈیشن کے باہمی اشتراک سے 10 ہزار گھروں کی تعمیر کا منصوبہ آئندہ جون تک مکمل کیا جائیگا۔ اس باہمی اشتراک کے تحت ان افراد کو گھروں کی تعمیر کے لیے قرضے فراہم کیے جائیں گے جن کے پاس اپنی ذاتی زمین موجود ہے لیکن گھر کی تعمیر کے لیے سرمایہ دستیاب نہیں ہے۔ اس توسیعی منصوبے کے تحت مستحق افراد کو 5 لاکھ فی گھر سود سے پاک قرضے دیئے جائینگے۔ اس کے ساتھ ساتھ پھاٹا اور انصار مینیجمنٹ کمپنی (لمٹیڈ) کے اشتراک سے لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں تقریباً 6000 کم قیمت گھروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں اب تک تقریباً 2 لاکھ کنال اراضی لینڈ بنک میں شامل کی جا چکی ہے اور تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ ہاؤسنگ آفیسرز اور مقامی سیاسی شخصیات پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جو اپنی سفارشات جلد پیش کریں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دوسرے مرحلے میں جہلم میں 1700، چنیوٹ میں 1700 اور سیالکوٹ میں تقریباً 10000 گھروں کی تعمیر کے جائیگی۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام ڈیویلپمنٹ اتھارٹیز کے بنیادی قوانین میں تبدیلیوں کے لیے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے تحت ہاؤسنگ قوانین کو پرائیویٹ ڈیویلپرز اور عوام الناس کے لیے نرم اور کارگر بنایا جائیگا کیونکہ 50 لاکھ گھروں کی تعمیر جیسے عظیم منصوبے کی تکمیل پرائیویٹ اشتراک کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنوری میں ہاؤسنگ سے منسلک بین الاقوامی کمپنیوں کو راغب کرنے کیلئے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔پینے کے صاف پانی اور سینی ٹیشن کے مجوزہ منصوبوں پر بات کرتے ہوئے میاں محمود الرشید نے بتایا کہ حکومت نے کلین ڈرنکنگ واٹر اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے. لاہور میں ویسٹ واٹر کو قابلِ استعمال بنانے اور دریاؤں اور فصلوں کو آلودہ ہونے سے بچانے کے لیے محمود بوٹی، شاد باغ، بابو صابو اور موہلنوال کے مقامات پر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے دو منصوبوں کے لیے زمین پنجاب حکومت نے حاصل کر لی ہے جبکہ دو کے لیے اراضی کے حصول پر کام جاری ہے۔ سالانہ ترقیاتی منصوبے کے تحت پنجاب کے دیہی علاقوں میں 12 ارب کی لاگت سے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب کے 11 اضلاع کے 4630 دیہات میں ورلڈ بنک کے تعاون سے WASH پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے جسمیں صاف پانی کی فراہمی، بیت الخلاؤں کی تعمیر و مرمت جیسے منصوبے شامل ہیں۔ اسی طرز پر اگلے پانچ سال میں صاف پانی کے حوالے سے ورلڈ بنک کی جانب سے نرم قرضوں کی فراہمی کا عندیہ دیا گیا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مری میں بلک واٹر سپلائی منصوبہ جو گزشتہ دور حکومت میں نظر انداز ہونے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا، دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ اب ڈھائی ارب کی بجائے تقریباً 10 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں صاف پانی کمپنی میں اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود نتیجہ صفر تھا۔ اسی ضمن میں جنوبی پنجاب میں 4 موبائل لیب میں پانی کا معیار چیک کرنے کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے جبکہ 36 مزید اضلاع میں واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی جائیں گی جس سے صاف پانی کی فراہمی کے عمل میں تیزی آئے گی۔ صاف پانی کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لیے پائلٹ پراجیکٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے صوبائی وزیر ہاؤسنگ میاں محمود الرشید نے کہا کہ لاہور میں 91 مساجد میں وضو کے پانی سے پارکوں کو سیراب کرنے کے منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے جس سے پانی کے ضیاع کو روکنے میں مدد ملے گی۔ واسا کی ایمنسٹی سکیم کے تحت غیر قانونی کنکشن استعمال کرنے والے صارفین کو پانی چوری روکنے کے لئے ڈیڑھ ماہ کا وقت دیا یے اس کے بعد قید اور جرمانہ ہو گا۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں کو بتاتے ہوئے کہا کہ صوبے بھر میں ڈیویلپمنٹ اتھارٹیز اور پی ایچ ایز کے ذریعے تقریباً 7 ارب 50 کروڑ کی سرکاری زمین واگزار کروائی گئی ہے جسے رفاہ عامہ کے کاموں کے لیے استعمال میں لایا جائیگا۔ کلین گرین پاکستان مہم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے تحت 4 لاکھ درخت لگائے جا چکے ہیں۔

Translation

اداریہ

آج کی تصویر

مقبول ترین

Whatsapp نیوز سروس

Advertise Here

ضرورت نمائیندگان

روزنامہ جواب

ضرورت نمائیندگان

Coverage

Currency

WP Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com