We are committed to reporting the facts and in all situations avoid the use of emotive terms.

بریکنگ نیوز
english logo

خامنہ ای کی حفاظت پر مامور فورس "الصابرین بریگیڈ” کو عراق ایران سرحد پر بھیجا گیا

خامنہ ای کی حفاظت پر مامور فورس "الصابرین بریگیڈ” کو عراق ایران سرحد پر بھیجا گیا

بغداد (یو این این) ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کی حفاظت پر مامور فورس "الصابرین بریگیڈ” کو عراق ایران سرحد پر بھیجا گیا ہے۔ خامنہ ای نے اس فورس کی تعیناتی کا براہ راست حکم دیا جو ایرانی پاسداران انقلاب سے رجوع کے بغیر اپنی رپورٹیں براہ راست رہبرِ اعلی کے دفتر ارسال کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ ایرانی سرحد کی حفاظت پر مامور فورس "القدس بریگیڈ” ہے اور یہ بریگیڈ اس وقت عراق یا شام میں موجود عراقی ملیشیاؤں کو چلا رہا ہے۔ عام طور سے مذکورہ فورس کو صرف اْس علاقے میں بھیجا جاتا ہے جہاں خامنہ ای دورے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ نہیں معلوم کہ آیا خامنہ ای سرحد کا دورہ کرنا چاہتے ہیں یا پھر ایران کی سرحد سے باہر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ پیش رفت بغداد اور تہران کے درمیان غیر مسبوق نوعیت کی اْس کشیدگی کے بعد سامنے آئی ہے جو عراقی حکومت کے اس اعلان کے سبب پیدا ہوئی کہ بغداد حکومت ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کو لاگو کرے گا۔ اس پس منظر میں سوشل میڈیا پر ایرانی اور عراقی ذمے داران کے درمیان الزامات کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ خامنہ ای کے ایران سے باہر جانے کی صورت میں یہ 1989ء میں رہبرِ اعلی کا منصب سنبھالنے کے بعد اْن کا پہلا بیرونی سفر ہو گا۔الصابرین بریگیڈ کے 1200 کے قریب ارکان کو عراق کے ساتھ سرحد پر تعینات کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ پاسداران انقلاب کے اسپیشل یونٹوں کے تقریبا 10 ہزار ارکان کو بھی سرحدی علاقے میں پھیلایا جا رہا ہے۔ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی پاسداری کریں گے۔ اس اعلان نے ایرانی عہدے داران کو چراغ پا کر دیا اور انہوں نے 80ء کی دہائی کے دوران جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ہرجانے کے طور پر بغداد سے اربوں ڈالر کی ادائیگی کا مطالبہ کر ڈالا۔ جواب میں عراقی ذمے داران نے بھی ایران سے مطالبہ کر دیا کہ وہ 2003ء سے عراق کو ہونے والے نقصان کے ازالے کے واسطے زر تلافی ادا کرے۔ عراق کے سابق رکن پارلیمنٹ فائق الشیخ علی نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اْس نے عراق میں امریکی فوج سے لڑنے کے نام پر القاعدہ تنظیم کی سپورٹ کی۔ بغداد میں ایرانی سفارت خانے کے قریبی خصوصی ذرائع نے خامنہ ای کے عراق کے دورے کی تردید نہیں کی اور کوئی بھی بیان دینے سے گریز کیا۔ یاد رہے کہ ایرانی رہبر اعلی کے بیٹے مجتبی نے رواں برس مئی میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے ساتھ بغداد کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کا مقصد بغداد میں ایرانی سفارت خانے میں اجلاس کے ذریعے عراق میں شیعہ گروپوں کے درمیان رابطہ کاری تھا تا کہ ایک یکساں موقف کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس اجلاس میں سابق عراقی وزیراعظم نوری المالکی اور بدر ملیشیا کے سربراہ ہادی العامری نے بھی شرکت کی تھی۔

Translation

اداریہ

آج کی تصویر

مقبول ترین

Whatsapp نیوز سروس

Advertise Here

ضرورت نمائیندگان

روزنامہ جواب

ضرورت نمائیندگان

Coverage

Currency

WP Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com