We are committed to reporting the facts and in all situations avoid the use of emotive terms.

بریکنگ نیوز
english logo

بیٹا کسی غیر اخلاقی حرکت میں ملوث ہوا تو استعفیٰ دیدوں گا ، محمودالرشید

بیٹا کسی غیر اخلاقی حرکت میں ملوث ہوا تو استعفیٰ دیدوں گا ، محمودالرشید

وقوعہ کے وقت بیٹا عادل اپنے ڈاکٹر دوست کے گھر تھا ، فون پر دوست علی کو پولیس تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ملی
پولیس اہلکار علی اور اس کی کلاس فیلو کوڈرا دھمکا کر سنسان جگہ پر لے گئے ، وحشیانہ تشدد کیا ، شلوار اتارنے کی کوشش کی
باقی دوستوں کے آنے پر دو اہلکار فرار ہو گئے ایک پکڑا گیا ، اہلکاروں نے اعتراف کر کے معافی مانگی لڑکوں نے چھوڑ دیا
ایک اہلکار نے تھانے جا کر ایف آئی آر کٹوا دی ، پولیس گردی معمول بن چکی ، پولیس حکام غیر جانبدار انکوائری کریں
لاہور (یو این این )صوبائی وزیر ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ پنجاب میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ پنجاب میں پولیس گردی معمول بن چکا ہے، ان کے بیٹے کو جان بوجھ کر گلبرگ واقعہ میں گھیسٹا جا رہا ہے ، بیٹا عاد ل کسی غیر اخلاقی حرکت میں ملوث نہیں ،وہ اس وقت موقعہ پر پہنچا جب پولیس والوں نے اپنی غلطی کی معافی مانگ کر تھانے نہ لے جانے کا کہا ، میڈیا میں حقائق کو تبدیل کر کے پیش کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ اگر میرا بیٹا واقعہ میں ملوث ہوا تو میں وزارت چھوڑ دوں گا ، پولیس حکام واقعہ کی غیر جانبدار انکوائری کروائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں ۔گزشتہ روز ڈی جی پی آر آفس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ پیر کو رات 8 بجے کے قریب میرا بیٹا اپنے ایک ڈاکٹر دوست کے گھر میں تھا کہ اسے فون آیا کہ دوست علی کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے جس پر میرا بیٹا عادل وہاں گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خود پولیس والوں سے مل کے سارے واقعہ کی تفصیل معلوم کی ہے اور پولیس نے بھی میرے بیٹے عادل کے واقعہ میں ملوث ہونے کا نہیں کہا ۔انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے عادل کے کلاس فیلوز لڑکے اور لڑکیاں مین بلیوارڈ پر واقع ایک نئے ریسٹورنٹ میں چائے وغیرہ کیلئے گئے تھے،اس وقت میرا بیٹا اپنے ڈکٹر دوست کے گھر تھا باقی دوست ریسٹورنٹ پہنچ گئے تھے جبکہ علی اور اس کی ایک کلاس فیلو لڑکی کار میں ریسٹورنٹ جا رہے تھے کہ راستے میں ایک موٹر سائیکل پر سوار سول کپڑوں میں ملبوس تین پولیس اہلکار وں نے گاڑی کو روک لیا ، ایک اہلکار تیزی سے اتر کر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر جا بیٹھا اور علی کواس لڑکی کو لے کر کہاں جا رہے ہو ،جس کے بعد تینوں اہلکاروں نے انہیں ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا ، بعد ازاں پولیس اہلکاروں نے علی کو گاڑی اپنی بتائی ہوئی جگہ پر لے جانے کا حکم دیا اور ایک اندھیری سنسان جگہ پر لے جا کر پولیس اہلکاروں نے علی نامی لڑکے کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کی ویڈیو بنانے کے لئے اس کی شلوار اتارنے کی کوشش کی، پولیس اہلکاروں نے علی سے 50 ہزار روپے کی ڈیمانڈ کی جس پر علی نے کہا کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں ، پولیس اہلکاروں نے اس کی جیب میں موجود 2000 روپے نکال لئے ۔ اس دوران لڑکی نے باقی دوستوں کو فون کر ساری کارروائی سے آگاہ کیا تو وہ سب موقعہ پر پہنچ گئے جس پر دو اہلکار موقعہ سے فرار ہو گئے اور ایک اہلکار ان کے ہاتھ لگا جسے پکڑ کر گلبرگ مارکیٹ کی طرف لے جارہے تھے کہ راستے میں دوسرا اہلکار بھی مل گیا جسے لڑکوں نے پکڑ لیا ، اس موقعہ پر ایک لڑکے نے گاڑی سے اتر کر اس اہلکار کو تھپڑ مارے ، جب لڑکے دونوں اہلکاروں کو لے کر گلبرگ مارکیٹ پہنچے تو میرا بیٹا بھی وہاں پہنچ گیا ،اہلکاروں نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ انہیں تھانے نہ لے جائیں جس پر لڑکوں نے اہلکاروں کا اعترافی ویڈیوں بیان بھی ریکارڈ کیا ۔دوسری طرف تیسرا اہلکار جو موقعہ سے فرار ہو گیا تھا اس نے تھانے جا کر لڑکوں کیخلاف ایف آئی آر درج کروا دی، اگلے دن جب پتہ چلا تو اپنے بیٹے کو کہا کہ فوری انوسٹی گیشن کیلئے پیش ہو جائے تا کہ اصل حقائق سامنے آ سکیں ۔صوبائی وزیر نے کہا کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کسی غیر اخلاقی حرکت میں ملوث نہیں تھے ، بلکہ وہ ٹی پارٹی کیلئے جا رہے تھے کہ پولیس گردی کا شکار ہو گئے ، لیکن میڈیا پر حقائق کو جس طرح توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اس سے مجھے اور اہلخانہ کو صدمہ ہوا ہے۔

Translation

اداریہ

آج کی تصویر

مقبول ترین

Whatsapp نیوز سروس

Advertise Here

ضرورت نمائیندگان

روزنامہ جواب

ضرورت نمائیندگان

Coverage

Currency

WP Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com