We are committed to reporting the facts and in all situations avoid the use of emotive terms.

بریکنگ نیوز
english logo

اگر آپ ڈی جی نیب کے عہدے کے اہل نہیں تو چھوڑ دیں، سپریم کورٹ کی سرزنش

اگر آپ ڈی جی نیب کے عہدے کے اہل نہیں تو چھوڑ دیں، سپریم کورٹ کی سرزنش

کیا کارکردگی ہے نیب کی ؟لوگوں کی تضحیک اور پگڑیاں اچھالنے کے علاوہ آپکی کیا کارکردگی ہے ؟چیف جسٹس کا استفسار
اگر آپ قصور وار ہیں تو آپ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتا ہوں:چیف جسٹس ،ڈی نیب شہزاد سلیم عدالت میں آبدیدہ
ہتھکڑی پروفیسرز کی موت ہے، میں استاد کی بے حرمتی برداشت نہیں کروں گا، چیف جسٹس نے ڈی جی نیب کو ڈانٹ پلا دی
ڈی جی نیب نے غلطی کا اعتراف کرکے معافی مانگ لی،سپریم کورٹ کا ڈی جی نیب اور دیگر افسران کو پوری قوم سے تحریری معافی مانگنے کا حکم

لاہور (یو این این )پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنے سے متعلق سپریم کورٹ میں ازخود کیس کی سماعت کے دوران ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے عدالت میں غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگ لی،عدالت نے ڈی جی نیب اور دیگر افسران کو پوری قوم سے تحریری معافی مانگنے کا حکم دے دیا ۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے سماعت کے دوران کہا کہ اگر آپ قصور وار ہیں تو آپ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتا ہوں، پھر آپ مقدمے میں اپنی ضمانتیں کرواتے پھریں اور آپ کو بھی ہتھکڑیاں لگواتا ہوں جس پر ڈی جی نیب عدالت میں آبدیدہ ہو گئے ۔ چیف جسٹس پاکستان نے مزید کہا کہ اپنی باری آئی ہے تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، ڈی جی نیب شہزاد سلیم نے عدالت میں بیان دیا کہ ڈاکٹر مجاہد کامران کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ہتھکڑیاں لگائی گئیں تاہم میں نے ڈاکٹر مجاہد کامران اور دیگر اساتذہ کے پاس جا کر خود معافی مانگ لی ہے ۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے کرپشن کے خلاف بہت کام کیے ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کام کیا ہے نیب نے؟ کیا کارکردگی ہے نیب کی ؟لوگوں کی تضحیک اور پگڑیاں اچھالنے کے علاوہ آپکی کیا کارکردگی ہے ؟چیف جسٹس نے کہا کہ ہتھکڑی مجاہد کامران اور پروفیسرز کی موت ہے، میں استاد کی بے حرمتی برداشت نہیں کروں گا ۔ چیف جسٹس نے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک کیس میں عدالت کے باہر کہا کہ کوئی بات نہیں چیف 3 ماہ میں چلا جائے گا، آپ سے متعلق بہت اچھے تاثرات ہیں مگر آپ کیا کر رہے ہیں؟اگر آپ ڈی جی نیب کے عہدے کے اہل نہیں تو چھوڑ دیں، آپ بتا دیں اس ادارے میں کام کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟جنہیں ہتھکڑیاں لگائیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بچوں کو تعلیم دی، رات ویڈیو دیکھ کر چیئرمین نیب کو فون کیا ، چئیرمین نیب نے معاملے سے لاعملی کا اظہار کیا اور کہا ڈی جی نیب لاہور آپکو مطمئن کریں گے ۔

Translation

اداریہ

آج کی تصویر

مقبول ترین

Whatsapp نیوز سروس

Advertise Here

ضرورت نمائیندگان

روزنامہ جواب

ضرورت نمائیندگان

Coverage

Currency

WP Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com